Showing posts with label Fazail Ahlebait as. Show all posts
Showing posts with label Fazail Ahlebait as. Show all posts

Monday, 8 March 2021

Ashab e Imam Musa Kazim as

 اصحابِ امام موسٰی کاظم علیہ السلام

اگرچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعد امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی زندگی کڑی نگرانی اور پھر قید و بند میں گزری پھر بھی محدثین نے آپ سے فقہ اور دوسرے موضوعات پر اس سے کہیں زیادہ حدیثیں روایت کی ہیں جتنی آپ کے بعد کسی اور امام سے کی ہوں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اپنے والد بزرگوار کی زندگی میں اتنا سا وقت مل گیا کہ جس میں آپ نے اپنے اصحاب اور جامعہ اہلبیت کے طالبعلموں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ چنانچہ آپ کے والد بزرگوار کی وفات کے بعد سخت حالات میں لوگوں کو جب بھی موقع ملتا خواہ رات کی تاریکی میں سہی وہ آپ سے رجوع کیا کرتے تھے۔
آپ کے اصحاب میں چھ افراد صدق اور امانت میں مشہور ہو گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ائمہ اہلبیت علیہم السلام سے جو روایات نقل کیں راویوں نے ان کے صحیح ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ محدثین میں تین اماموں یعنی امام محمد باقر علیہ السلام، امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے اٹھارہ افراد بہت مشہور ہیں اور وہ اصحاب اجماع کہلاتے ہیں۔ ان میں سے چھ امام محمد باقر علیہ السلام، چھ امام جعفر صادق علیہ السلام کےاور چھ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے اصحاب ہیں۔

امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے وہ چھ اصحاب یہ ہیں؛
یونس بن عبدالرحمان، صفوان بن یحیٰ بیاع السابری، محمد بن عمیر، عبدالله بن مغیرہ، حسن بن محبوب سراد اور احمد بن ابی نصر بزنطی۔
یونس بن عبدالرحمان؛  آپ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے مخلص اصحاب میں سے تھے اور انہوں نے آپ سے احادیث اخز کی ہیں۔ پھر انہوں نے امام علی رضا علیہ السلام کی امامت کا کچھ زمانہ بھی پایا جیسا کہ آپ نے ان کے بارے میں فرمایا؛ یونس بن عبدالرحمان کا اپنے زمانے میں وہی مقام ہے جو سلمان فارسی کا اپنے زمانے میں تھا۔
شیخ طوسی نے الفہرست میں کہا ہے کہ مختلف موضوعات پر یونس بن عبدالرحمان کی لکھی ہوئی تیس کتابیں تھیں۔ ان کے متعلق یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ روزانہ چالیس مومن بھائیوں سے ملاقات کرتے اور پھر اپنے گھر واپس آتے تھے۔ نیز نماز، طعام اور حوائج ضروری کے علاوہ کسی بھی وقت پڑھنا لکھنا ترک نہ کرتے تھے۔ ان کی اکثر تالیفات علم الکلام میں ہیں اور ان کے بارے میں بعض ممتاز اہل ع و فن کی آراء، ان کی وسعتِ علم اور قوت فکر پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ کشی نے کتاب الرجال، مرزا محمد نے اتقان المقال میں اور محدث قمی نے الکنٰی والالقاب میں صراحت کی ہے۔ 
محمد بن ابی عمیر؛ آپ امام موسٰی کاظم علیہ السلام اور ان کے فرزند امام علی رضا علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔ انہوں نے ان دونوں اماموں سے حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا اور پھر انہی معلومات کی روشنی میں فقہ اور دیگر موضوعات پر کتابیں تالیف کیں۔
احمد بن محمد بن عیسٰی قمی بیان کرتے ہیں کہ محمد بن ابی عمیر نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک سو افراد کی روایات جمع کی ہیں۔ جاحظ کہتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ عبادت گزار، تمام خوبیوں میں اپنے زمانے کے فرد وحید اور خاص و عام کے نزدیک معتمد ترین شخص تھے۔
فضل بن شاذان نے بیان کیا ہے کہ جب میں عراق گیا تو وہاں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے ساتھی کو ڈانٹتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ارے تمہارے اوپر قرض ہے اور تم صاحب عیال بھی ہو، اس لئے تم کو چاہئے کہ ان کے لئے روزی کماؤ۔ اس حالت میں تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ سجدوں کو طول دینے کیوجہ سے کہیں تمہاری آنکھیں ہی نہ جاتی رہیں۔ اس پر اس نے جواب دیا کہ وائے ہو تمہارے حال پر کہ تم مجھ پر بہت زیادتی کر رہے ہو۔ ارے اگر سجدوں کو طول دینے سے کسی کی آنکھیں جائا کرتیں تو پھر سب سے پہلے ابن ابی عمیر کی آنکھیں جاتیں کہ جو بہت ہی طولانی سجدے کیا کرتے تھے۔
خلیفہ ہارون نے ان کو اس لئے قید میں ڈال دیا کہ وہ امام موسٰی کاظم علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام سے خصوصی میل جول رکھتے تھے۔ اس نے یہ پابندی بھی لگا دی کہ ان کو امام کے اصحاب اور خاص دوستداروں کے حالات کی کوئی خبر نہ دی جائے تاہم ان کے لئے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ وہ سب کو پہلے ہی سے جانتے پہچانتے تھے۔ وہ ایک مدت تک قید میں رہے اور جب اس سے بہت تنگ آگئے تو انہوں نے قید خانے کے داروغہ سندی بن شاہک کو ایک لاکھ بیس ہزار درہم دئیے تب ان نے ان کو رہا کر دیا۔
ان کے حالات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان کو یہ خوف تھا کہ کہیں ہارون کے ملازمین ان کی وہ تالیفات ہتھیا نہ لیں جو ائمہ اہلبیت علیہم السلام کی احادیث پر مشتمل تھیں۔ اس لئے انہوں نے وہ کتابیں اپنے گھر کے ایک گوشے میں دفن کر دی تھیں لیکن افسوس کہ جب وہ قید سے چھوٹ کر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ سب گل چکی تھیں۔ اس کے بعد وہ جو روایت بھی کرتے محض اپنے حافظے پر اعتماد کرتے ہوئے بغیر سند کے نقل کیا کرتے تھے تاہم فقہاء نے ان کی ایسی بلاسند احادیث کو بھی معتبر مانا ہے کیونکہ وہ ان کے معتمد ہونے اور ان کی روایتوں کے بلاسند ہونے کے مذکورہ بالا سبب سے واقف تھے۔ چنانچہ محدثین میں یہ امر مشہور ہوگیا تھا کہ ابن عمیر کی یہ بلاسند روایات دوسرے قابل اعتماد راویوں کی ان روایات کے مانند ہیں جن کو سند کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
صفوان بن یحییٰ بیار سابری؛ وہ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے آپ کی وفات کے بعد امام علی رضا علیہ السلام اور امام محمد تقی علیہ السلام کی صحبت میں رہے۔ ان کے حالات میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے چالیس شاگردوں سے روایات لیں اور احادیث ائمہ پر مشتمل تیس سے اوپر کتابیں لکھی ہیں جیسا کہ کشی، طوسی، ابن ندیم اور کتب رجال کے دوسرے مؤلفین نے صراحت کی ہے۔
عبدالله بن مغیرہ بجلی؛ کتب رجال کے مؤلفین نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ وہ روایت میں انتہائی بااعتماد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے ان اصحاب میں سے ہیں کہ جن کی آپ سے لی ہوئی روایات کی صحت پر محدثین کی پوری جماعت نے یقین کیا ہے۔ عبدالله بن مغیرہ بجلی نے مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔
حسن بن محبوب سراد، احمد بن محمد بن عمرو بزنطی؛ یہ دونوں ہی امام موسٰی کاظم علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام کے معتمد اصحاب میں سے ہیں۔ انہوں نے امام محمد تقی علیہ السلام کا زمانہ بھی پایا اور آپ سے فقہ وغیرہ میں روایات بھی لی ہیں۔ کتب رجال کے مؤلفین نے صراحت کی ہے کہ ان دونوں کی بیان کی ہوئی روایات کے قبول کرنے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ 

چونکہ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے ان چھ اصحاب، امام جعفر صادق علیہ السلام کے چھ اصحاب اور امام محمد باقر علیہ السلام کے چھ اصحاب کے صدق و دیانت اور ان کی روایات کو قبول کرنے پر سبھی محدثین کا اتفاق ہے اس لئے ان اٹھارہ بزرگوں کو اصحاب اجماع کہا جاتا ہے۔
اگرچہ امام موسٰی کاظم علیہ السلام کے شاگردوں میں ان چھ افراد کے علاوہ اور لوگ بھی مشہور ہوئے لیکن جیسا کہ علم رجال کی کتابوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان چھ اصحاب کے مرتبے کو نہیں پہنچے۔ 

کتاب؛ سیرت ائمہ اہلبیت علیہم السلام جلد دوم
صفحہ؛ ۳۰۹-۳۱۱
مصنف؛ علامہ سید ہاشم معروف حسنی

التماس دعا؛ بندہ احقر توصیف اسلم امرہ کلاں

Saturday, 6 March 2021

فرامینِ امام موسٰی کاظم علیہ السلام

 امام موسٰی کاظم علیہ السلام کےمختصر کلمات

امام موسٰی ابن جعفر علیہ السلام ساتویں امام برحق ہیں۔ یہاں پر ہم ان کے چند مختصر فرامین نقل کریں گے جن کا ایک ایک لفظ انسان کے لئے رہنما اصول 
اور سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ 




سیرت ائمہ اہلبیت علیہم السلام میں علامہ سید ہاشم معروف حسنی نے امام موسٰی کاظمؑ کے چند فرامین  کچھ یوں بیان کئے ہیں۔

۔۱۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جتنا مال تم الله تعالٰی کی اطاعت میں خرچ کرنے سے باز رہو، اتنا ہی اس کی نافرمانی میں خرچ کر ڈالو۔

  ۔۲۔ مومن ترازو کے دو پلڑوں کی مانند ہوتا ہے یعنی جوں جوں اس کا ایمان بڑھتا ہے اس کی آزمائش بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔

۔۳۔ اچھی ہمسائیگی صرف ضرر رسانی سے رکے رہنا ہی نہیں بلکہ ضرر پہنچنے پر صبر کرنا بھی اچھی ہمسائیگی ہے۔

۔ ۴۔ اپنے دل میں ناداری کا خوف اور طول عمر کی خواہش نہ رکھو کیونکہ جس کو ناداری کا خوف ہو وہ کنجوسی کرنے لگتا ہے اور جو طول عمر کی خواہش کرتا ہے وہ لالچ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

۔۵۔ دنیا کی نعمتوں میں سے اپنے لئے اتنا حصہ لے لو جو جائز ضروریات کے لئےہو، جس سے مروت پر دھبہ نہ آئے اور اس میں فضول خرچی بھی نہ ہو۔ پھر اس سے اپنے دینی معاملات کے انجام دینے میں مدد لو کیونکہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو دین کی خاطر دنیا کو چھوڑ دے یا دنیا کے پیچھے دین کو ترک کر دے۔

۔۶۔ فقیہ کا مرتبہ ایک عابد سے اسی طرح بلند ہے جس طرح ستاروں سے آفتاب کا مرتبہ بلند ہے۔

۔۷۔ آپؑ نے علی بن یقطین سے فرمایا؛ حاکم کے مفاد میں کام کرنے کا کفارہ یہ ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے ساتھ نیک سلوک کرتے رہو۔ جب لوگ ایسے گناہ کرنے لگیں کہ جو انہوں نے پہلے کبھی نہ کئے ہوں تو الله تعالٰی بھی ان پر ایسی مصیبتیں نازل کرے گا جو اُن پر کبھی نہ آئی ہوں۔

۔۹۔ امامؑ نے فرمایا؛ قیامت کے روز ایک منادی یہ آواز دے گا کہ ہر وہ شخص کھڑا ہو جائے جس پر الله تعالٰی کا کوئی اجر نکلتا ہو۔ اس پر صرف وہ لوگ کھڑے ہوں گے جنھوں نے کسی کا قصور معاف کر کے اس سے صلح کی ہوگی کیونکہ ایسے ہی لوگوں کا اجر الله تعالٰی پر ہوتا ہے۔

۔۱۰۔ آپؑ نے یہ بھی فرمایا؛ وہ سخی شخص کہ جو خوش خلق بھی ہو، وہ الله تعالٰی کے قرب میں رہتا ہے۔ پھر الله تعالٰی اس کو ہرگز دور نہیں کرتا یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کر دیتا ہے۔ چنانچہ میرے والد بزرگوار اپنی زندگی کے آخری لمحات تک مجھ کو سخاوت اور حسن اخلاق کی برابر تلقین فرماتے رہے۔

کتاب۔ سیرت ائمہ اہلبیت علیہم السلام جلد دوم
صفحات  ۳۱۷-۳۱۸
مصنف۔ علامہ سید ہاشم معروف حسنی


التماس دعا۔ بندہ احقر توصیف اسلم امرہ کلاں

Friday, 5 March 2021

اے علی تم دنیاوآخرت میں میرے بھائی ہو۔ الحدیث


جیسا کہ سیرت کی بعض کتابوں اور احادیث کے مجموعوں میں بیان کیا گیا ہے کہ رسول اکرمﷺ نے قبل اس کے کہ وہ یثرب کی طرف ہجرت کریں مہاجرین کے درمیان مکے میں ہی بھائی بھائی کا رشتہ قرار دے دیا تھا۔ چنانچہ رسول اکرمﷺ نے ابوبکر اور عمر میں، عثمان اور عبدالرحمٰن بن عوف میں، حمزہ اور زید بن حارثہ میں، زبیر بن عوام اور عبداللَٰہ بن مسعود مین اور اسی طرح دیگر لوگوں میں اخوت کا رشتہ قائم فرمایا یہاں تک کہ حضرت علیؑ کے علاوہ کوئی باقی نہ رہا۔ مسلمانوں کو یہ امر عجیب معلوم ہوا کہ رسول اکرمؐ نے حضرت علیؑ کو چھوڑ دیا اور ان کے اور کسی دوسرے مسلمان کے درمیان بھائی بھائی کا رشتہ قائم نہیں کیا۔ تب رسول اکرمؐ نے علیؑ سے فرمایا: کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ میں تمہارا بھائی ہوں؟
حضرت علیؑ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا اور وہ بولے: ضرور یارسول اللّٰہؐ۔
پس رسول اکرمﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔
اس کے باوجود کہ اس بارے میں بکثرت روایات وارد ہوئی ہیں بعض افراد اس مواخات اور خاص کر رسول اکرمؐ اور حضرت علیؑ کے درمیان مواخات سے انکار کرتے ہیں۔ غالباََ ان کے انکار کا سبب یہ ہے کہ رسول اکرمﷺ نے حضرت علیؑ کو اپنے لئے منتخب کیا اور ان کو اس مرتبے سے وہ خصوصیت مرحمت فرما دی کہ تمام صحابہ جس کی تمنا کرتے تھے۔ چنانچہ آپؐ نے ان کے بڑے بڑوں کو چھوڑ دیا اور ان کو عوام الناس کے برابر کر دیا۔
سیرت ابن ہشام اور دوسری کتابوں میں لکھا ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اکرمﷺ نے ان میں بھائی بھائی کا رشتہ قائم فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے یہ رشتہ ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصار میں قرار دیا۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ خون کے رشتوں اور دوستی کے معاہدوں کے تعلقات کہ جن کا عرب قبیلوں میں عام رواج تھا، وہ ان کی زندگی پر حاوی تھے اور ان کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جا رہے تھے، ان کی بجائے ان سب کو اسلام اور ایمان کے رشتے میں پرو دیا جائے۔
اس اخوت سے رسول اکرمؐ کا مطلوب یہ تھا کہ ان کی صفوں میں نظم پیدا کردیں۔ اسلام کے جھنڈے تلے ان کی وحدت کو مضبوط بنا دیں اور ان کو الله کے نام پر آپس میں اس طرح بھائی بھائی بنا دیں تاکہ وہ غصہ، خوشی، محبت، نفرت سب کچھ الله ہی کے لئے کریں اور آپس کے کینے اور انتقام بھول جایں۔ رسول اکرمؐ کی یہ پُر حکمت تدبیر سب سے پہلے آپ کی دور اندیشی اور گہری فکر کا ثبوت دیتی ہے کیونکہ آپ نے دیکھ لیا تھا کہ اسلام کو وسیع تحریکیں، سخت مشقتیں اور آزمائشیں پیش آنے والی ہیں جن پر مقصد و غایت کی وحدت نیز ان لڑائیوں اور غارتگریوں سے علیحدہ رہ کر ہی غلبہ حاصل کیا جا سکتا تھا جو عرب قبیلوں میں اور خاص کر اوس اور خزرج میں اور مدینے کے قرب و جوار میں بسنے والے قبیلوں کے درمیان ہوتی رہتی تھیں اور ان دشمنیوں کی یاد مزید کینے اور بہت سے اسباب پیدا کرتی رہتی تھی جو ان کو پیہم جنگوں میں مبتلا کرتے تھے۔
علاوہ بریں مدینے آنے والے مہاجروں میں سے بیشتر ایسے تھے کہ جن کے پاس ایک روز کا کھانا بھی نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ ان کو شدید ضرورت تھی کہ وہ وسائل زندگی کے حصول کے لئے کوئی کام کاج کریں۔ اس کے لئے سردست ایک یہی طریقہ تھا جو رسول اکرمؐ نے اختیار فرمایا اور ان کے درمیان اس طرح کا رشتہ قائم کر دیا جس نے انصار کے دلوں میں بہت خوش آئند اثر پیدا کیا۔ چنانچہ انہوں نے ان مہاجرین کو اپنے اوپر ترجیح دی اور ان کے لئے راہ حیات آسان کردی یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے افراد چند ہی برسوں میں خوشحال ہوگئے اور دولت مندوں میں شمار ہونے لگے۔
ابن ہشام مزید لکھتے ہیں؛ رسول اکرم ص نے یہ مواخات اس طرح قائم فرمائی کہ ابوبکر اور خارجہ بن زید کو، عمربن خطاب اور عتبان بن مالک کو، جراح اور سعد بن معاذ کو، عبدالرحمان بن عوف اور سعد بن ربیع خزرجی کو، زبیر بن عوام اور سلمہ بن سلامہ کو، عثمان بن عفان اور اوس بن ثابت کو آپس میں بھائی بھائی بنایا اور اسی طرح دوسروں کو بھی یہاں تک کہ کوئی ایسا مہاجر باقی نہیں رہا جس کو ایک انصاری کا بھائی نہ قرار دیا گیا ہو۔ ہر انصاری اپنے نئے مہاجر بھائی کو وجوب کے طور پر بھائی سمجھنے لگا اور وہ اس کو اپنے برابر بلکہ کھانے میں بھی برابر کا شریک قرار دیتا تھا۔ چنانچہ دن گزرنے کے ساتھ شیرازے اور رشتے جو لوگوں کو باہم دگر باندھے ہوئے تھے کمزور پڑنا شروع ہوگئے یہاں تک کہ بھول بسر گئے اور ان کی جگہ اس اسلامی اخوت نے لے لی اور وہی ان کا مقصد اور طرز حیات بن گئی۔ غالباً یہ صورت بھی ان اسباب میں سے ایک ہےجن کے باعث مسلمانوں کو چند ہی برسوں میں وہ فتوحات حاصل ہو گئیں جنھوں نے مسلمانوں کو بہت آگے بڑھا دیا لیکن جب یہ روح کم اور کمزور ہونا شروع ہو گئی تو اسلامی حکومتوں کے جسم میں بھی کمزوری داخل ہونے لگی حتٰی کہ مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگے اور اس حالت کو آن پہنچے جس میں وہ آج کل ہیں۔ اب وہ غیروں کے غلام بن گئے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے وہ دنیا کے سردار اور ایک باعزت قوم تھے۔
ریاض النضرة میں لکھا ہے کہ رسول اکرمؐ نے اس موقع پر بھی حضرت علی علیہ السلام کو چھوڑے رکھا۔ ان کے اور کسی اور کے درمیان بھائی بھائی کا رشتہ قرار نہیں دیا۔ تب حضرت علی علیہ السلام نے کہا کہ یارسول اللهﷺ آپ نے سب لوگوں کو آپس میں بھائی بھائی بنایا لیکن مجھے نظرانداز فرما دیا ہے۔
رسول اکرمؐ نے فرمایا؛ تم کو میں نے اپنے لئے رکھ چھوڑا تھا۔ تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں۔ اگر کوئی تم سے اس کا ذکر چھیڑے تو کہہ دینا کہ میں خدا کا بندہ اور رسول اکرمؐ کا بھائئ ہوں۔ میرے بعد جھوٹے کے سوا اس کا دعویٰ نہیں کرے گا۔
سید مرتضٰی فیروز آبادی نے فضائل الخمسہ کی جلد اول میں اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ اس حدیث کو احمد نے مناقب میں، علی متقی نے کنزالعمال میں اور ابن عدی نے کامل میں روایت کی ہے۔
ریاض النضرة کی جلد اول میں طبرانی سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا؛ قسم اس ذات کی جس نے مجھ کو برحق مبعوث فرمایا، میں نے تم کو اپنے لئے رکھ چھوڑا تھا۔ تم میرے ساتھ اس منزل پر ہو جیسے موسٰی علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام تھے، سوائے اس کے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تم میرے بھائی اور میرے وارث ہو۔
علی علیہ السلام نے کہا؛ یارسول اللہﷺ! مجھ کو وراثت میں کیا ملے گا؟
رسول اکرمؐ نے فرمایا؛ جو مجھ سے پہلے انبیاء نے وراثت میں پایا تھا۔
علی علیہ السلام نے دریافت کیا؛ آپ سے پہلے انبیاء نے وراثت میں کیا پایا تھا؟
رسول اکرمؐ نے فرمایا؛ اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت۔ اور تم جنت میں میرے قصر میں میری بیٹی فاطمہ سلام اللّٰہ علیہا کے ساتھ ہوگے۔ اس کے بعد رسول اکرمؐ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی؛
اِخواناً عَلٰى سُرُرٍمُّتَقٰبِلِينَ- بھائیوں کی مانند ایک دوسرے کے سامنے مسندوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔سورہ حجر؛ آیت 47
 کتاب۔ سیرت ائمہ اہلبیت علیہم السلام جلد اول صفحہ ]195-198]
مصنف۔ علامہ سید ہاشم معروف حسنی

التماس دعا۔ بندہ احقر توصیف اسلم امرہ کلاں

Alqabat e Hazrat Ali as


اس ویڈیو میں ایران کے ایک ٹی وی چینل پر بہترین اور منفرد انداز میں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے القابات پیش کئے گئے ہیں۔ 



 

Wednesday, 24 February 2021

Imam Muhammad Taqi as ki Nasihat

فرمان امام محمد تقی علیہ السلام

انسان پر اللّٰہ کی نعمتیں اسی وقت زیادہ ہوتی ہیں جب اس پر انسانوں کی طرف سے سختیاں بڑھتی ہیں۔ جو کوئ ان سختیوں کو نہ جھیل سکے گا وہ نعمت کو بھی زوال کے راستے پر لگا دے گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: خیرات کرنے والے کو اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ حاجت مند اس کی طرف آئیں کیونکہ ان کی وجہ سے اس کو اجر ملتا ہے، فخر حاصل ہوتا ہے اور اس کا ذکر عام ہوتا ہے۔ جب کوئ شخص خیرات کرتا ہے تو یہ خود اسی کے لئے مفید ہے۔ پس اسے اپنے ہی لئے نیکی کرنے پر کسی دوسرے شخص سے شکریہ کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔

کتاب: سیرت ائمہ اہل بیت علیہم السلام

مصنف: علامہ سید ہاشم معروف حسنی

صفحہ: 444 

کاوش: بندہ احقر توصیف اسلم امرہ کلاں


 

Tuesday, 23 February 2021

جشن مولود کعبہ

 بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم 

معزز قارئین کی خدمت میں ہدیہ سلام و جشن مولود کعبہ کی مبارکباد پیش کرتے ہیں
امیرالمومنین حضرت علی ع کی ذات گرامی بعد از پیغمبر اکرم، نہ صرف مومنین بلکہ پوری انسانیت کے لئے  
اعلٰیترین نمونہ ہے۔ جس میں علم، حکمت، شجاعت، سخاوت، عدالت، صبروشکر اور توکل وغیرہ کے  
 وہ جوہر پائے  
جاتےہیں جو کسی بھی انسان کے لئے نمونہ عمل ہو سکتے ہیں۔ 
آپ علیہ السلام کے فضائل و مناقب اس قدر زیادہ ہیں کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کسی کے  
لئےاتنے زیادہ فضائل بیان نہیں ہوئے جتنے حضرت علی ع کے لئے بیان ہوئے ہیں۔ 
ہم یہاں مولا علی ع کے فضائل و مناقب میں سے چند ایک کا مختصر تذکرہ کریں گے۔ 


حضرت علی علیہ السلام مولود کعبہ

               (1)حاکم کہتے ہیں کہ اخبار متواترہ سے ثابت ہے کہ آپ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی ہے۔ 
(المستدرک علیالصحیحین ج 3 ص 550)



                           (2)کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن اوکلے کہتے ہیں کہ آپ کی ولادت خانہ کعبہ میں ہوئی اور آپ کے علاوہ
کسی کے لئے ایسا نہیں ہوا۔ (The history of Saracens page331 
(3)شبلنجی کہتے ہیں کہ آپ کی ولادت یوم جمعہ 13 رجب 30 عام الفیل کو ہوئی اور آپ سے پہلے کسی کی ولادتکعبہ 
میں نہیں ہوئی۔ (نور الأبصار في مناقب آل بيت النبي المختار ص 158)
(4)شاہ ولی اللّٰہ کہتے ہیں کہ ان(حضرت علی ع) کے مناقب میں سے جو ان کی پیدائش کے وقت ظاہر ہوئے
 ایک یہ ہےکہ وہ جوف کعبہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ (إزالة الخفاء عن خلافة الخلفاء ج 4 ص 405,406)
(5)نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں ابن عم رسول و سیف اللّٰہ، مظہر العجائب والغرائب، اسد اللّٰہ الغالب 
ولادت انکی مکہ مکرمہ میں اندر بیت اللّٰہ میں ہوئی ان سے قبل کوئی بیت الحرام کے اندر پیدا نہیں ہوا تھا۔
(تکریمالمومنین بتویم مناقب خلفاء الراشدین ص99)

بوقتِ ولادت امام علی علیہ السلام کا اذان و اقامت اور سجدہ 

شیخ محمد بن حسن الحر العاملی کہتے ہیں کہ ولادت کے بعد آپ نے سجدہ کیا اور پھر سر کو اٹھایا اور اذان و  

اقامت کہی اور اللّٰہ کی توحید، محمد ص کی رسالت اور اپنی خلافت و ولایت کی گواہی دی۔  

(اثبات الھدات ج3 ص496,497) 

 

حضرت علی علیہ السلام کے القابات

ویسے تو آپ کے القابات بہت زیادہ ہیں لیکن یہاں پر ہم فقط وہی ذکر کرتے ہیں جو شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی  

نےفتاوٰی عزیزی میں نقل کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں

مرتضٰی کے علاوہ صحیح احادیث میں آپ کا ان القابات کیساتھ ملقب ہونا بھی ثابت ہے

ذی القرنین، یعسوب الدین، صدیق، فاروق، سابق، یعسوب الامہ، یعسوب المومنین، یعسوب قریش، بیغت البلد،  

امینشریف، ہادی، مھدی وغیرہ۔ (فتاوٰی عزیزی ص 326)


حضرت علی علیہ السلام مثیل ہارون علیہ السلام

پیغمب اکرم ص نے حضرت علی ع سے فرمایا آپ کو مجھ سے وہی مقام حاصل ہے جو  

حضرت ہارون علیہ السلام کوحضرت موسٰی علیہ السلام سے تھا۔( صحیح بخاری)

ملا علی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اگر نبی پاک کے بعد کوئی نبی ہوتا تو علی ہوتے۔  

(شرح مشکوٰةج11)

نوی کہتے ہیں کہ یہ حدیث تقاضا کرتی ہے کہ مولا علی اس امت میں نبی کریم کے بعد سب سے افضل ہوں  

جیسے حضرت ہارون ع حضرت موسٰی ع کے بعد بنی اسرائیل میں سب سے افضل تھے۔  

( صحیح مسلم مع شرح نوی ج6 ص90)


پیغمبر اکرم ص کے بعد ہر مومن کے ولی

ایک طویل حدیث مبارکہ کا آخری حصہ ہے کہ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔ علی میرے بعد ہر مومن کےولی ہیں۔ (جامع الترمزی ص 842 مطبوعہ الریاض)


حضرت علی ع رسول اللّٰہ ص کے بھائی

آپ ص نے فرمایا تم(علی) دنیاوآخرت میں میرے بھائی ہو۔ (جامع ترمزی ج2 ص558 کتاب المناقب)


حضرت علی علیہ السلام اور قرآن کا ساتھ

نبی کریم ص نے فرمایا “علی قرآن کےساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے یہ کبھی جدا نہ ہونگے یہاں تک کہ حوضکوثر پر پہنچ جائیں گے”۔ (المستدرک علی الصحیحین ج3 ص134 مطبوعہ بیروت)


حضرت علی ع کو دیکھنا اللّٰہ کی عبادت

نبی کریم ص نے فرمایا “علی ع کی طرف دیکھنا عبادت ہے”۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ج9 ص109 بیروت)


حضرت علی ع سردار جنت

نبی کریم ص نے فرمایا “ حسن اور حسین علیہم السلام جنت کے جوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والد ان سے بہترہیں”۔ (المستدرک علی الصحیحین ج3 ص182 مطبوعہ بیروت)


حضرت علی علیہ السلام مومن اور منافق کی پہچان

مولا علی فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے مومن کے علاوہ کوئی محبت نہیں رکھے گا  

اور منافق کے علاوہ کوئی بغض نہیں رکھے گا۔ (صحیح مسلم ج1 ص124 مترجم)


حضرت علی علیہ السلام محبوب خدا

انس کہتے ہیں کہ نبی کریم ص کے پاس ایک (بھنا ہوا) پرندہ تھا۔ آپ ص نے دعا کی  کہ اے اللّٰہ اس مخلوق میں سےتجھے سب سے محبوب ہو اسے بھیج تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کو کھائے، پس علی ع آئے اور  

آپ ص کے ساتھاسے کھایا۔ (جامع ترمزی عربی، انگلش ج6 ص393)


حضرت علی علیہ السلام محبوب رسول خدا

راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ سے سوال کیا کہ رسول اللّٰہ ص کو سب سے زیادہ کس سے محبت تھی توانہوں نے فرمایا فاطمہ سلام اللّٰہ علیہا سے۔ پوچھا گیا مردوں میں سے تو کہا ان کے شوہر سے۔ 

 (مشکوٰة شریف ج3 ص342 باب مناقب اہلبیت)


حضرت علی علیہ السلام نبی پاک ص کے وزیر

رسول اللّٰہ ص نے دعا کی (اے اللّٰہ) مجھے وزیر دے جو کہ میرا بھائی علی ہے۔ اور اس کے ذریعے میری کمر 

 کو مضبوط بنا دے۔ ( تفسیر در منثور ج10 ص183)


حضرت علی علیہ السلام ہادی امت

ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ ص نے فرمایااے علی ہدایت پانے والے میرے بعد آپ کے ذریعے ہی ہدایت پائیں گے۔(فتح الباری شرح بخاری ج8 ص226 مطبوعہ مصر)


حضرت علی علیہ السلام سب سے بڑے قاضی

نبی کریم ص نے فرمایا تم میں سب سے بڑا فیصلہ کرنے والا علی ع ہے۔ (إزالة الخفاء عن خلافة الخلفاء ج4 ص475)


حضرت علی علیہ السلام قسیم النار والجنت

رسول اللّٰہ ص نے فرمایا آپ جنت اور جہنم کے تقسیم کرنے والے ہیں۔ 

( الصواعق المحرقہ ص175 مطبوعہ استنبول)


حضرت علی علیہ السلام وارث خاتم الانبیاء

نبی پاک ص نے فرمایا “میرا قرض یا میں ادا کروں گا یا علی ادا کرے گا”۔  

(خصائص امیرالمومنین ص82 مترجم، امامنسائی)


نبی پاک کیساتھ سب سے پہلے نمازی

زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللّٰہ ص کے ساتھ نماز ادا کی وہ علی ابن ابی طالب ع ہیں۔ (الاستيعاب في معرفة الأصحاب ج2 ص45 بیروت)


حضرت علی علیہ السلام مولائے کائنات

نبی کریم ص نے فرمایا جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کا علی مولا ہے۔ یہ حدیث متواتر ہے چنانچہ سیوطی نےاپنی کتاب الأزهار المتناثرة في الأخبار المتواترة میں اس کو متواتر کہا ہے۔ 


مسلمانوں کے سردار اور امام المتقین

رسول اللّٰہ ص نے فرمایا علی ع کے بارے میں مجھے تین چیزوں کی وحی کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کے سردار ہیں،متقین کے امام ہیں اور روشن چہرے والوں کے قائد ہیں۔ (المستدرک علی الصحیحین ج3 ص148 بیروت)


حضرت علی علیہ السلام سب سے زیادہ علم والے

راوی کہتا ہے میں نے عطا سے پوچھا کہ نبی کریم ص کے اصحاب میں سے کیا کوئی علی سے زیادہ علم والا تھا؟ توعطا نے جواب دیا نہیں خدا کی قسم میں نہیں جانتا۔ (الإستيعاب في أسماء الاصحاب ج2 ص50)


حضرت علی علیہ السلام مفسر قرآن

حضرت علی ع فرماتے ہیں قرآن کے بارے میں مجھ سے پوچھو مجھے ایک ایک آیت کے بارے میں نازل ہے کہ وہ رات کےوقت نازل ہوئی یا دن کے وقت، آپ کے گھر نازل ہوئی یا میدان میں۔ (الاصابہ فی تمیز الصحابہ ص1065 ابن حجرعسقلانی، تاریخ الخلفاء ص268 جلال الدین السیوطی)

 

حضرت علی علیہ السلام صاحب منبر سلونی

اصحاب نبی میں سے کوئی بھی نہیں کہتا تھا کہ مجھ سے پوچھو سوائے علی ابن ابی طالب ع کے۔ (فضائلالص 

بہ ج2 ص646 مطبوعہ مکہ مکرمہ)


 

تحریر و تحقیق۔ شاہد عباس                                   معاونت۔ توصیف اسلم


پیشکش۔ حسینیہ لائبریری امرہ کلاں

Ashab e Imam Musa Kazim as

 اصحابِ امام موسٰی کاظم علیہ السلام اگرچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعد امام موسٰی کاظم علیہ السلام کی زندگی کڑی نگرانی اور پھر قید و بن...

Also Read